ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھارت بند کو بھٹکل میں ملی مکمل حمایت؛ دکانیں، کاروباری ادارے اور تعلیمی ادارے بند؛ راستوں پر بھی نظر آئی خاموشی

بھارت بند کو بھٹکل میں ملی مکمل حمایت؛ دکانیں، کاروباری ادارے اور تعلیمی ادارے بند؛ راستوں پر بھی نظر آئی خاموشی

Wed, 29 Jan 2020 20:29:05    S.O. News Service

بھٹکل 29/جنوری (ایس او نیوز) شہریت قانون کی مخالفت میں بہوجن کرانتی مورچہ کی جانب سےبھٹکل میں بھارت بند کو مکمل حمایت حاصل ہوئی اور شہر میں تمام کاروباری ادارے، تجارتی مراکز ، دکانیں اور مارکٹس سمیت اکثر تعلیمی ادارے بھی بند رہے جس کے نتیجے میں  شہرکی اکثر سڑکوں پر بھی خاموشی چھائی رہی۔

بعض جگہوں پر یکا دُوکّا دکانیں کھلی تھیں، مگر خریدار نظر نہیں آرہے تھے، اسی طرح  مچھلی مارکٹ میں  مچھلیاں بیچنے والی عورتیں مکھیوں سے کھیلتی نظر آئیں، جبکہ   سبزی بیچنے والی عورتوں کو  بھی آج کے بند سے کافی مایوسی ہوئی کیونکہ سبزیاں خریدنے کے لئے گاہک نہیں آرہے تھے۔ مسلم آٹو رکشہ تو شہر کی سڑکوں سے غائب رہیں، البتہ  دیگر کمیونٹی کے رکشہ اپنے اپنے اسٹائنڈوں پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے، جن پر بیٹھنے کے لئے مسا فر نہیں تھے۔

شمس الدین سرکل کے اطراف کچھ دکانیں اور ہوٹلس کھلے تھے، مگر خریدار نہیں تھے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بہوجن سماج کے لوگوں نے بھی آج کے بند میں حصہ لیا  اور شہر میں بند مکمل کامیاب رہا۔

خیال رہے کہ شہریت قانون ، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں  بہوجن کرانتی مورچہ نے آج بدھ کو بھارت بند کا اعلان کیا تھا جس پر  شمالی ہندوستان سمیت کرناٹک کے علماء حضرات نے بھی بند کی مکمل  حمایت کا اعلان کیا تھا، اسی پس منظر میں بھٹکل میں بھی قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم نے بھی بند کی حمایت کرتے ہوئے عوام الناس سے تمام کاروباری اور تجارتی مراکز کو   بند کرنے کی اپیل کی تھی۔

ضلع اُڈپی کے گنگولی میں بھی بند کامیاب:   پڑٖوسی ضلع اُڈپی کے گنگولی میں بھی آج بھارت بند کو مسلمانوں اور دلت تنظیموں کی طرف مکمل حمایت حاصل ہوئی، البتہ دیگر فرقہ کے لوگوں نے بند میں حصہ نہیں لیا۔شہریت قانون ، این آر سی اور این پی آر قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اور ان قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے  مسلمانوںسمیت پچھڑی ذات کے لوگوں نے  بند میں بھر پور حصہ لیا۔

 آج گنگولی میں سنتے  بازار بھی  لگا  تھا، مگر بند کی وجہ سے سنتے بازار عوام سے خالی نظر آیا۔ دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور مسلم نیز دلت   رکشہ ڈرائیوروں نے بھی اپنی اپنی سروس  بند رکھتے ہوئے   بھارت  بند کا ساتھ دیا۔ البتہ ضلع کےدیگر حصوں میں بند کا کچھ اثر نظر نہیں آیا۔


Share: